ماں کے نام

ماں کے نام!
کچھ دل سے ،

” ماں پہلی درسگاہ ہے “

ماں جیسا کوئی نہیں،
ماں جیسا کوئی نہیں ،
ماں کے قدموں میں ہے جنت ،
ماں کے قدموں کو ہے سلام

ماں کی آغوش رحمان نے بنائی
ماں کے آنچل سے تسکین سمائی
دو عالم ملیں ایسی عطا فرمائی
ماں جیسا کوئی نہیں ،
ماں جیسا کوئی نہیں،

ماں ہے ، خلوص و مہر کا پیکر ،
ماں ہے، محبت و انس کا ضمیر،
ماں ہے خُدا کارحم آسمانی ،
ماں کے قدموں میں ہے جنت
ماں کے قدموں کو ہے سلام

ماں ہے دُنیا میں جنت کی سفیر
ماں ہی تو ہے نشانِ منزل ِ آدم ،
ماں سراسر ہے تقدس کا پیام،
ماں جیسا کوئی نہیں،
ماں جیسا کوئی نہیں

ماں کے قدموں میں ہے جنت ،
ماں کے قدموں کو ہے سلام
ماں جیسا کوئی نہیں،
ماں جیسا کوئی نہیں

باتیں دل کی۔۔۔ کچھ کہی، کچھ ان کہی
 اک بات آنکھوں سے آنسو رواں کر رہی ہے ماں جیسا کوئی نہیں، آج ماں پہ لکھنے کو دل کیا تو دل ،دل سے ہی باہر آنے لگا ،میرے ساتھ چلتے چلتے ہر لفظ دھندلا سا گیا ہے سچ تو یہ ہے ماں جیسا کوئی نہیں

اس کی محبت کا “م” بھی نہیں مل سکتا
اس کی چاہت کا عکس ہر محبت پہ بھاری ہے
پتہ ہے ہمیں اس کی محبت کا سایہ ہمیشہ تسکین والا ہے

ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت ، ٹھنڈک ،تسکین ،انس، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے ۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاپ کی مانند ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِسایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے ۔

اس کی گرم گود سردی کااحساس نہیں ہونے دیتی ۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے ، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے

اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں احساس دلاتی ہے

ماں“ ایسا لفظ ہے جو دونوں ہونٹوں کے ملائے بغیر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ لفظ ماں سنتے ہی دل و دماغ ایسے تر و تازہ ہو جاتے ہیں جیسے بارش بنجر زمین کو تر و تازہ کر دیتی ہے۔ ماں کے بغیر گھر ہمیشہ ویران نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو یہ درجہ عطا کیا کہ اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔

ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے، جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکا اور نہ ہی ناپ سکے گا۔ ماں کی محبت ہمالیہ کا وہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلندیوں کو آج تک کوئی چھو سکا اور نہ چھو سکے گا، ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی، ماں تو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہے۔

جہاں ماں کا ذکر آگیا سمجھ لینا چاہئے کہ ادب کا مقام آگیااور میری آنکھیں زندگی کا وہ المیہ جان چکی ہیں ماں جیسا کوئی نہیں،
کیونکہ ،
“با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب “

اور اب وہ وقت آ گیا ہے جب میں سوچتی ہوں
اللہ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں سے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دکھ،آزمائشیں، آنسو ،تھکن اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اس کی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہوجائیں۔

پتہ ماں وہ بینک ہے جس میں ہم اپنے سارے دکھ سب مٹ کروا کے ریلیکس ہو سکتے ہیں،
وہ سکون ہی سکون ہے ،
سراپا عطا ہی عطا ہے

ماں کے بارے میں لکھنا ہو تو یاد رکھنا ،لفظ ہر محبت کو بھول کر اس راستے کی منزل تلاش کرنے لگتے ہیں جس میں کوئی کجی نہیں، وہ سب سے زیادہ خوبصورت رحمن رب کی ربوبیت کا عکس ہے جو ایک ہی رنگ میں اس کائنات کے سارے رنگ لئے ہوئے ہے

مغربی تہذیب میں بچے بڑے ہوکر اپنے ماں باپ کو اولڈ
ہومز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ ماں کا مقام کیا ہے باپ کا ادب کیا ہے وہاں سب بھلا دیا گیا ہے مغرب کی پیروی میں ایسا اب پاکستان میں بھی کیا جا رہا ہے ،پاکستان جو کہ ایک اسلامی ملک ہے اس میں بھی اولڈ ہومز بن چکے ہیں۔

آج کے مادیت زدہ معاشرے نے خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ والدین کی عزت رسم تک محدود ہوتی جا رہی ہے، اولاد دنیا کمانے میں مست ہے۔ ماں بہت مجبور ہو تو بس رو دیتی ہے۔
اور ماں کا دکھ کتنا بڑا ہو گا،بس ہم یہی بھول جاتے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ
ماں کی محبت وہ واحد اور سچی محبت ہے
جس میں کوئی ریاکاری، دکھاوا، بناوٹ نہیں ہوتی۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کیلئے قرآن حکیم اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں واضح احکامات ہیں۔

ماں کے حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے خصوصی اہمیت دی ہے۔ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اس حدیث کا مطلب ہے کہ ساری عبادتیں مل کر بھی ماں کی خدمت کے برابر نہیں ہو سکتیں،

اس لئے مرتے دم تک اس حق کی ادائیگی میں ہمہ وقت مستعد رہنا چاہئے اس سے ہماری زندگیوں میں پایا جانے والا بگاڑ اور بے سکونی کا خاتمہ ہو جائے گا ماں جیسا کوئی نہیں

اے دل!
مانگنا ہو اس رب رحمان سے تو اس کی محبت کا،
اس کی چاہت کا بہترین حصہ مانگنا
اس ماں کا ساتھ مانگنا جو مل جائے تو کچھ کم نہیں ہوتا سب بڑھتا ہے چاہے رذق ہو، عزت ،رفعت ،شان و شوکت یا دنیا مافیہا کا کوئی بھی خزانہ ہو ،
دونوں جہاں کی خیر ماں کی بس اک صدا بلند ہونے میں چھپی ہے

سچ تو یہ ہے کہ سب ماں کی دعاوں میں پوشیدہ ہے جو تجھے تجھ سے نہیں مل سکتا وہ ماں کی دعا سے ہی مل سکتا ہے

ماں محبت ہے
ماں جیسا کوئی نہیں،
ماں کے قدموں میں ہے جنت ،
ماں کے قدموں کو ہے سلام

اور آخر میں یہ شعر ہر ماں کے نام!

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

تحریر از:
سدرہ اصغر
ایس ایس نور!

Maan Kay Naam

Written by Sidra Asghar

SS Noor

One thought on “ماں کے نام

  1. Its mindblowing writing superb we dont have words to express the love for this writing😍😍😘😘😘😘😘😘😘😘😘

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Next Post

Poor Elephant Should Wear Ivory

Fri May 1 , 2020
Elephant Should Wear Ivory! by Qasim Imam Animals have always been used by humans for different labor works and animals […]

Urdu Zindgy.com Site

Zindgy.com urdu

Write for Zindgy

Write for Zindgy Write for Zindgy or Blog (English or Urdu) Send your write-up file at websfocus@gmail.com Terms and Conditions

Number #1 Baby Names Database in the World

%d bloggers like this: