جوؤں یا  لائس  کے حقائق

جوؤں یا  لائس  کے حقائق

juwon / lice kay haqaiq

joon

جوؤں یا  لائس  کے بارے میں  زیادہ  جاننے کے لئے  اسکے  بارے میں  اہم حقائق پڑھئیے ۔

تاکہ  آپ ان سے چھٹکارا  پا سکیں۔

جوؤیں  انسان  کو زمانہ قدیم  سے پریشان کررہی ہیں اور  اس  کا خون چوس رہی ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس سے نجات پائیں  اور اپنی زندگی کو آرام دہ اور کھجلی سے پاک بنا ئیں ۔

جوؤں کے بارے میں کچھ اہم حقائق یہ ہیں۔

 جوں ایک انچ  کے لگ بھگ  آٹھویں حصے کے برابر  یا اس سے بھی چھوٹی  ہو سکتی ہے۔ اس کا رنگ سرمئی سفید اور اس کا جسم بغیر پروں کے  ہے۔

جوؤں کی بہت سی قسمیں ہیں اور ان میں سر کی جوؤیں بھی شامل ہیں جو انسانی کھوپڑی  کی جلد  پر رہتی ہیں۔

 لوؤ س  یا لائس خالصتاً انسانی مخصوص  جوں  ہے اور یہ صرف انسانوں میں رہتی ہے اور اگر اسے  جانوروں  کی جلد پر چھوڑ بھی دیا جائے تو یہ مر جائے گی۔

ایک اپسرا  آٹھ  یا نو دن کے بعد جوں کے انڈے   سے نکلتا ہے اور اپنی خوراک حاصل  کرنے کے لئے کھوپڑی  کی جلد کے قریب ہی  رہتا ہے۔

کمرے کے درجہ حرارت  پر انڈوں میں سے بچے آسانی سے نکل آتے ہیں ۔

ایک اپسرا  سے  بالغ   جوں بننے میں مزید  نو سے بارہ  دن لگتے ہیں  ۔ بالغ  مادہ جوں  پھر سے انڈے  پیدا کرسکتی  ہے۔

بالغ جوئیں ، اگر کھوپڑی کی جلد سے جدا ہوجائیں تو آزادانہ طور پر صرف  اڑ تا لیس  گھنٹوں کے لئے زندہ رہ سکتی  ہیں۔

ایک بالغ  جوں  اپنے میزبان میں  تیس  دن تک زندہ رہ سکتی  ہے۔

ایک بالغ جوں روزانہ  چا ر سے پانچ  انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنی  پوری عمر کے دوران      پچاس سے ایک سو پچاس تک انڈے دے سکتی ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ  ایک   مادہ  جوں  کےاپنی  زندگی  میں  انڈے دینے کی اوسط  اٹھاسی انڈے ہے۔

جوؤں کے انڈے  کے ارد گرد ایک خاص مادہ اسے محفوظ رکھتا ہے۔   اور عام  شیمپو  اور لوشن ان انڈوں کو انسانی کھوپڑی سے تباہ یا ختم نہیں کرسکتے ۔

سر کی جوؤیں  نہ تو اچھل  سکتی ہیں   اور نہ ہی اڑ سکتی ہیں۔ لہذا   ایک شخص سے دوسرے  شخص میں جوؤں کی منتقلی کے لئے سر سے سر کا براہ راست  رابطہ ہونا ضروری ہے۔

مزید یہ کہ بالغ جوؤں کے سر سے گرنے کا زیادہ خطرہ اسوقت  ہوتا ہے جب وہ حرکت  کر رہی ہوتی ہیں ۔ اسطرح اگر ایک آدمی کا سر دوسرے  آدمی کے سر کے ساتھ  نہ بھی لگے تو جوں دوسرے شخص  کے سر پر رینگتے  ہوئے  بھی جا سکتی ہے۔  

جوؤں میں دیگر بیماریوں کے جراثیم نہیں ہوتے ۔

ایک شخص کو صرف اس وقت جوؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب  ایک  مادہ  جوں اس کے سر کی جلد پر پہنچ جائے۔

یاد  رکھیئے ۔  جوؤں کے کسی بھی علاج میں سر کی جلد  میں اس کے انڈوں کی ہلاکت یا تباہی شامل ہونا چاہئے۔

نوٹ ۔  جوؤں کے بارے میں مزید تحقیق  بھی  ضرور پڑھتے رہیئے  ۔

 

More from Science

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Next Post

اردو شاعر محسنؔ احسان

Fri Sep 25 , 2020
اردو شاعر محسنؔ احسان آج – 23؍ستمبر 2010 پاکستان میں نئی غزل کے ممتاز شاعر” محسنؔ احسان صاحب “ کا […]
mohsin ihsan

Urdu Zindgy.com Site

Zindgy.com urdu

Write for Zindgy

Write for Zindgy Write for Zindgy or Blog (English or Urdu) Send your write-up file at websfocus@gmail.com Terms and Conditions

Number #1 Baby Names Database in the World

%d bloggers like this: