اے میرے وطن

 

Ay Meray Watan
by Asghar Ali Asghar

اے میرے وطن۔

اے میرے وطن کیا کہوں تیرا فسانہ۔

پڑی ضرورت تو پیش ہے جان کا نذرانہ۔

کیوں کھٹک رہا ہے تیرا وجود پاک نا خداووں میں

کبھی اپنوں میں،کبھی مندروں میں، کبھی کلیساوں میں۔

اسلام کا قلعہ ہے اسلام کا گہوارہ۔

اسی لئے تو نہیں ہے دشمنوں کو گوارا۔

اس مٹی کے جوانو،اس وطن کے قرضدارو

دشمنوں کو پہچانو،مٹی کا قرض اتارو۔

چھوڑ دو آپس کی نفرتیں کدورتیں۔

مطلب پرستی اور خود غرضی کی ضرورتیں

پہلے اپنے آپ کو مسلمان جانو

پھر با حیثیت پاکستانی اپنے کو پہچانو۔

چھوڑ دو ذاتیں اور فرقہ پرستیاں

آپس میں لڑوانا اور مطلب کی خر مستیاں مر۔

چلے تو جانا ہے ایک دن اس دنیا سے۔

چھوڑ جانا ہے سب کچھ اس دنیا سے۔

پھر خدا کو کیا منہ دکھاو گے کون سے اعمال کا حساب گنواو گے۔

خدارا ایک ہو جاو،نیک ہو جاو
…………………..

یہ بھی پڑھئے۔

جا۔ تجھ کو معاف کیا۔

سب کا پتہ ہے لیکن خاموش رہتے ہیں۔

تیرے بغیر،میں مٹا تو نہیں۔

اے میرے وطن

عورت کبھی بھی بدصورت نہیں ہوتی۔

سنا ہے تم پڑھے لکھے ہو

۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: